The history and protection of Real Estate in the time of Subcontinent
برصغیر پاک وہندمیں....پراپرٹی اور ملکیت کا تحفظ تاریخ کے آئینہ میں... ’برطانوی حکمرانی کے دوران انگریز نے جس چیز پر پہلے توجہ دی وہ پراپرٹی کے رقبہ کی ناپ تول اور پیمائش تھی اور یہ کام انہوں نے اپنے اقتدار کے ابتدائی چند سالوں میں مکمل کرلیا تھا۔پاکستان 1947ء میں وجود میں آیا۔برصغیر پر انگریزراج سے پہلے مسلمان حکمرانوں کا صدیوں تک طویل دور حکمرانی رہا ہے۔انگریزوں نے1757 میںایسٹ انڈیا نامی کمپنی کی آڑ میں اس خطے پر قدم جمائے اور پھر مقامی غیر مسلم آبادی کو غلامی کا احسا س دلاتے ہوئے ایک طویل جدوجہد کے بعد بالآخر مسلم حکمرانوں کیخلااف کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ٹھیک 100سال بعد کئی جنگی محاذوں کے بعدپورے برصغیر پر ان کا قبضہ ہوگیا۔اسے ہم خالصتاً زمین کے حصول کی جنگ ہی کہیں گے ،کیوں کہ برطانیہ کو اپنے وسیع ترین راج کیلئے زرعی زمینوں کی اشد ضرورت تھی اور یہی مقصد اسے برصغیر کی سر زمین سے یہ پورا ہوتانظر آرہا تھا جو بعد میں ثابت بھی ہوا،ایسٹ ینڈیا کمپنی بھی کسی اور چیز کے لئے نہیں بلکہ اناج کے حصول کی تجارت کی غرض سے آئی تھی۔دیکھا جائے تو ہر حکمران زمین کے حصول کیلئے ہی آج تک جنگ و جدل کرتا رہا ہے اور آگے بھی زمین ہی ان کا محو رہے گی۔
زمین پر قبضہ کا جنون ۔۔۔۔یہ قصہ بہت پرانا ہے ! زمین پر قبضے اور اس کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کا کا رواج انسان کے وجود کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا،زمین ہمیشہ سے ہی انسان کیلئے پر کشش رہی ہے ، اس کی محبت اور اسے پانے کے جنون میں وہ کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار رہتا ہے ،زمین پر جس قدر انسان قبضہ کرتا ہے وہ اسے اتنا ہی طاقت ور بنادیتی ہے یہاں تک زمین ہی اسے باد شاہ بناتی ہے۔پرانے وقتوں میں بادشاہ اپنی سلطنتوں میں اضافے کیلئے زمینوں پر ہی قبضوں میں زندگیاں گزار دیتے تھے لیکن اپنے خاتمہ پر انہیں دوگز زمین ہی نصیب ہوتی تھی۔گیارہویں صدی عیسوی میں زمین پر قبضے کا جنون منگولوں سے پیدا ہوا۔ان کی جدوجہد صرف زمین کا حصول تھا اس لئے انہیں آج بھی لٹیرے کہا جاتا ہے ۔زمینوں کیلئے انہوں نے انسانی اقدار کوجس طرح روندا اس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملتی ،دنیا کے 64 فیصد رقبے پر انکی حکومت دراصل زمین کا حصول تھا جس کیلئے انہوں نے کروڑوں انسانوں کو زمین کے نیچے پہنچا دیا لیکن پھردوسو سال بعد ہی ان سے یہ زمین چھن گئی اور وجود مٹ گیا اور پھر آج تک وہ قوم صرف تاریخ کا حصہ ہی بن کر رہ گئی۔اس کے بعد زمین پر قبضے کا جنون ایک سولائزڈ نیشن (برطانوی راج)میں پیدا ہوا اور اس نے سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے تک کی زمین کی حدوںپر قبضہ کر کے چنگیزی دور کی یاد تازہ کردی اور یہ سب محض منگولوں کے اقتدار کے خاتمہ کے دوسو سال بعد ہی ہوا۔ایسا اب بھی ہورہا ہے جسے اب ایک طبقاتی نظام کے دائرے میں محدود کر دیا گیا ہے جسے وڈیرہ شاہی،چوہدراہٹ یا قبضہ مافیا کانام دیا جا چکا ہے ۔ان سب باتوں سے قطع نظر زمین کے حقیقی مالک نے تو اسے انسانوں کیلئے ایک بچھونا بنایا تھااور امن اور محبت سے اس میں رہنے اور رزق تلاش کرنے کاکا حکم دیا تھا۔
کیا آپ نے رئیل اسٹیٹ کی دنیاکے بڑے چینل کاوزٹ کیا ہے؟ پراپرٹی کے رقبہ کی ناپ تول اور پیمائش مسلم حکمرانی سے برطانوی راج تک برطانوی حکمرانی کے دوران انہوں نے جس چیز پر پہلے توجہ دی پراپرٹی کے رقبہ کی ناپ تول اور پیمائش تھی اور یہ کام انہوں نے اپنے ابتدائی چند سالوں میں مکمل کرلیا تھا،اس سلسلے میں انہوں نے نا صرف پراپرٹی کے مالکانہ حقوق کا تحفظ کیا بلکہ ٹیکسز کا نیا نظام متعارف کراکے اپنی سلطنت کو ریونیواکٹھا کرنے کے قابل بنادیا جو برطانیہ کی مرکزی حکومت کی مدد کی ضرورت تو کجا بلکہ اس کے خزانے کو بھرنے کاوسیع ذریعہ ثابت ہوئی۔اسی لئے ہندوستان کو’’ سونے کی چڑیا‘‘ کہا گیا۔اسے انگریز کا ایک کارنامہ کہا جائے تو بجا ہو گا،حالانکہ ہندوستان پر قبضے کے بعد سب سے پہلے زمین کی پیمائش کا کام سلطان علاؤالدین خلجی نے کیا ،اس کے بعد اس کام کو مزید آگے بڑھانے کا سہرا شیر شاہ سور ی کے سر جاتا ہے جس نے باقاعدہ نقشے بنا کر اپنی سلطنت کے وسیع رقبے کو محفوظ کیا۔کابل سے پشاور پھر وہاں سے براستہ لاہور بھارتی پنجاب سے لیکر اپنے دارالحکومت دہلی تک تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر طویل شاہراہ بنوائی جسے شاہراہ شیر شاہ سوری کانام دیا گیا۔ اس کا وجود آج بھی پاکستان میں جی ٹی روڈ اور بھارت میں شیر شاہ سوری روڈ کے نام سے موجود ہے۔اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم حکمران تعمیراتی انجینئرنگ پر کتنی توجہ دیتے تھے۔آگے چل کر مغلیہ دور اس کی وہ شاہکار مثال تھا جس میں تاج محل سے لیکر باشاہی مسجد اور دیگرلاتعداد خوبصورت جیومیٹریکل تعمیرات کے بڑے کارنامے انجام دیئے گئے ۔پاکستان جب وجود میں آیا توپراپرٹی کے حوالے سے تمام معاملات کو انگریز ہی کے بنائے گئے ناپ تول ، پیمائش اور قانون کے تحت رکھا گیا، سوائے اسلامی وراثتی تقسیم کے ۔.
.....آئیے...... پراپرٹی کے حوالے سے وطن عزیز پاکستان میں رائج قوانین کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔

Leave a comments