آباد کی بڑی تعمیراتی پیشرفت،ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس یکساں بلڈنگز بائی لاز پر متفق
قیام پاکستان سے لے کر آج تک سول پراپرٹی اور ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس ایریا کی علیحدہ علیحدہ شناخت رہی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ دونوں کی اہمیت میں زمین آسمان کا فرق ہے تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹس ایریا کو ہمیشہ سے ایک خاص مقام حاصل رہا ہے،سول آبادی کے مقابلے میں یہاں کی سہولیات ہمیشہ سے اعلیٰ درجہ کی رہی ہیں،یہی وجہ ہے کہ سول آبادی کے لوگ بھی کنٹونمنٹس ایریا میں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں،پہلے پہل تو یہ ممکن نہیں تھا لیکن آج ہر کنٹونمنٹ ایریا میں سول آبادی کیلئے گنجائش رکھی جاتی ہے جہاں سہولیات کے پیش نظر عام آبادی کی نسبت کئی گنا رینٹ لیا جاتا ہے،اس کے علاوہ کنٹونمنٹس کی حدود میں پراپرٹی کی لیز پر فروخت بھی شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ قیمت میں ہوتی ہے۔کنٹونمنٹس ایرا اور ملٹری لینڈجہاں کہیں بھی ہو وہاں تعمراتی سرگرمیوں کیلئے سخت قوانین کی پاندی کی جاتی ہے جو شہری علاقوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ ان پراپرٹیز پر تعمیرات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور یہ سالوں جوں کی توں پڑی رہتی ہیں۔
اس سلسلے میں تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) اور ملٹری لینڈ ایینڈ کنٹونمنٹس کراچی ریجن کے درمیان مفاہمت کی یاداشت دستخط ہوگئے۔ ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ کلفٹن کے دفتر میں منعقدہ تقریب میں چیئرمین آباد محسن شیخانی اور ڈائریکٹر ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس کراچی ریجن عادل رفیع صدیقی نے ایم او یو پر دستخط کیے۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس میجر جنرل سید حسنات عامر گیلانی جبکہ آباد کے سینئر وائس چیئرمین سہیل ورند،وائس چیئرمین عبدالرحمٰن،ریجنل چیئرمین محمد علی توفیق رتاڑیا،سابق چیئرمین آباد محمد حسن بخشی، آباد کی کنٹونمنٹس بورڈ پر قائم کمیٹی کے کنوینر یونس لاکھانی، عارفین زبیر چوہدری ایڈیشنل ایم ای و کراچی سرکل، محمد فاروق ایم ای او کراچی، ڈاکٹر محمد رضوان ڈپٹی سی ای او کلفٹن، مسز عارفہ وحید سی ای او حیدرآباد بھی شریک تھیں۔ میجر جنرل سید حسنات عامر گیلانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آباد کی مشاورت سے کراچی ریجن کے تمام کنٹونمنٹس بورڈ کے لیے یکساں بائی لاز اور ون ونڈو آپریشن کا افتتاح کردیا ہے جن پر 14 اگست کو یوم پاکستان سے عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آباد کی تجاویز پر مشتمل اور ایس بی سی اے اور ایل ڈی اے کے قوانین سے مطابقت رکھنے والے بائی لاز اور ون ونڈو آپریشن سب سے پہلے متعارف کرانے کا اعزاز ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس بورڈز کراچی ریجن نے حاصل کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آباد کے ساتھ معاہدے کا مقصد بلڈرز اور ڈیولپرز کو آسانیاں فراہم کرنا اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دینا ہے۔
سید حسنات عامر گیلانی نے کہا کہ ون ونڈو آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے تعمیراتی پروجیکٹ کی منظوری کے لیے بلڈرز اور ڈیولپرز کو سرکاری اداروں کی جانب سے بلیک میل کیا جاتا تھا،ون ونڈو آپریشن کے بعد نجی شعبے کو کوئی بھی سرکاری ادارہ بلیک میل نہیں کرسکے گا۔ آباد کے چیئرمین محسن شیخانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک میں تعمیراتی شعبے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، تعمیراتی شعبے کے متحرک ہونے سے دیگر 70 سے زائد صنعتوں کا پہیہ بھی چلنا شروع ہوجاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں انھیں ممالک نے ترقی کی جنھوں نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو اہمیت دی۔انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 70 برسوں سے تعمیراتی شعبے کو اہمیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ہمارا ملک خطے میں پیچھے رہ گیا ہے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ اداروں کو ڈیجیٹلائز کرنا اور ون ونڈو آپریشن آباد کا دیرینہ مطالبہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس بورڈز کراچی ریجن میں یکساں بائی لاز اور ون ونڈو آپریشن کا نفاذ نئی نسل کے لیے ایک شاندار تحفہ ہوگا۔
محسن شیخانی نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے جس میں ہرسال ڈھائی سے 3 لاکھ کا اضافہ ہورہا ہے جو حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ڈائریکٹر ملٹری لینڈز اینڈ کنٹومنٹس عادل رفیع صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس کی ہدایات پر آباد کی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس بورڈز کے لیے یکساں بائی لاز اور ون ونڈو آپریشن کا نظام متعارف کرایا ہے۔انھوں نے کہا کہ بائی لاز اور ون ونڈو آپریشن کے لیے 1984 سے کوششیں کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ بائی لاز کے مطابق تمام متعلقہ شعبوں کو ایک چھت تلے لاکر تعمیراتی پروجیکٹ کی منظوری 30 روز میں کی جائے گی۔تعمیراتی پروجیکٹ کے لیے منظوری کے لیے درخواست 30 روز کے بعد از خود ہی منظور ہوجائے گی۔6 منزلہ اور اس سے زائد کے منصوبوں میں خصوصی رعایت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوفٹ ویئر بنا رہے جس سے پروجیکٹ کی منظوری کے عمل سے درخواست گزار بلڈرز اور ڈیولپرز کو مطلع کیا جائے گا اور بائی لاز کے حوالے سے درخواست گزار کی اہلیت کا پتہ چل سکے گا۔عادل رفیع صدیقی نے بتایا کہ بائی لاز اور ون ونڈو آریشن کا مین فوکس بلڈرز اور ڈیولپرز کو کاروبار میں سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

Leave a comments